ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق يمن کے ايک انقلابي رہنما عبدالرحمن معوضہ نے بتايا کہ يمن کے باشندوں نے بدھ کے روز صنعا اور ديگر شہروں ميں مظاہرے کيے اور فوج کے ڈھانچے ميں تبديلي، ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح اور اس کے حاميوں کے اثاثوں کو منجمد کيے جانے، سياسي قيديوں کي رہائي اور قومي مذاکرات کے منصوبے کي مخالفت کا اعلان کيا-
يہ مظاہرے ايسے عالم ميں ہوئے ہيں کہ جنوبي يمن کے ابين صوبے کے حالات بدستور کشيدہ ہيں جہاں گزشتہ دنوں القاعدہ نے تينتيس فوجيوں کو ہلاک کر کے اٹھائيس ديگر کو گرفتار کر ليا تھا-
واضح رہے کہ خليج فارس تعاون کونسل کي جانب سے پيش کيے گئے منصوبے کے مطابق علي عبدللہ صالح نے قانوني استثني کے بدلے اقتدار نائب صدر عبد ربہ منصور ہادي کےحوالے کر ديا تھا تاہم يمن کے عوام اور سياسي گروہوں کا کہنا ہے کہ نئي حکومت، سابق ڈکٹيٹر کي ہي پٹھو ہے اور اسي کي ظالمانہ پاليسيوں پر عمل کر رہي ہے-/.......
/169